skip to main |
skip to sidebar
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ جب فضائی سفر کرتے ہیں تو ایئرپورٹ پر اتر کر آپ کو یقین ہوتا ہے کہ آپ اسی ملک میں ہیں جس کا آپ کے پاس ویزا ہے لیکن دنیا میں کچھ ایسے ایئرپورٹس بھی ہیں جن پر اترنے کے بعد اگر آپ احتیاط نہ کریں تو آپ غلط ملک میں بھی جا سکتے ہیں اور مشکل سے دوچار ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ ایئرپورٹس حیران کن طور پر ’بائی نیشنل‘ ہیں یعنی یہ ایئرپورٹس انٹرنیشنل بارڈرز پر بنے ہوئے ہیں اور بیک وقت دو ممالک میں موجود ہیں یا ان سے ایک سے زائد ممالک کے لوگ سفر کرتے ہیں۔ سی این این کے مطابق ان ایئرپورٹس میں سے ایک یوروایئرپورٹ باسل مل ہاﺅس فریبرگ ہے۔ اس ایئرپورٹ کے نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ فرانس، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے سنگم پر واقع ہے۔ اس ایئرپورٹ کے ذریعے سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل، فرانس کے شہر مل ہاﺅس اور جرمنی کے شہر فریبرگ جانے والے لوگ سفر کرتے ہیں۔ یہ ایئرپورٹ اگرچہ مکمل طور پر فرانس کی حدود میں ہے مگر تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے کچھ معاہدوں کے سبب سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے شہریوں کو بغیر فرانسیسی ویزے کے اس ایئرپورٹ تک رسائی حاصل ہے۔ دوسرا جنیوا ایئرپورٹ ہے۔ یہ ایئرپورٹ سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے مگر اس کا رن وے بارڈر عبور کرکے فرانس کی حدود میں چلا جاتا ہے۔ 1950ءمیں جب سوئس حکام اس ایئرپورٹ میں توسیع کرنا چاہتے تھے، اس وقت یہی ایک قابل عمل طریقہ تھا کہ رن وے کا کچھ حصہ فرانس کی حدود میں بنایا جائے۔ اس کے لیے فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے مابین ایک معاہدہ عمل میں آیاجس کے تحت فرانس نے سوئٹزرلینڈ کو رن وے اپنے ملک میں بنانے کی اجازت دے دی اور جواباً سوئٹزرلینڈ نے فرانس کو ایئرپورٹ کا ایک حصہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ تیسرا ’کراس بارڈر ایکسپریس (سی بی ایکس) ایئرپورٹ ہے۔ یہ امریکہ اور میکسیکو کے بارڈر پر واقع ہے۔ ان کے علاوہ اس نوعیت کے ایئرپورٹس میں جبرالٹر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کئی ایسے ایئرپورٹس شامل ہیں جو امریکہ اور کینیڈا کے بارڈر پر واقع ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا کے بارڈرز پر واقع ان ایئرپورٹس میں قابل ذکر ڈیل بونیٹا ویٹ سٹون انٹرنیشنل ایئرپورٹ موناٹا، کوروناش/سکوبے بارڈر سٹیشن ایئرپورٹ موناٹا، ایوی فیلڈ واشنگٹن و دیگر شامل ہیں۔ان تمام ایئرپورٹس پر اترنے والے مسافروں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہیں کیونکہ ان پر اترنے کے بعد وہ ایک کی بجائے دوسرے ملک میں بھی داخل ہو سکتے ہیں، جس کا ان کے پاس ویزا ہی نہ ہو۔
0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔